Selected

Original Text
Muhammad Hussain Najafi

Available Translations

12 Yūsuf يُوسُف

< Previous   111 Āyah   Joseph      Next >  

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the name of Allah, Most Gracious, Most Merciful.

12:1 الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَـٰتُ ٱلْكِتَـٰبِ ٱلْمُبِينِ
12:1
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
الف، لام، را۔ یہ ایک واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔

12:2 إِنَّآ أَنزَلْنَـٰهُ قُرْءَٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
12:2
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
بے شک ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنا کر نازل کیا ہے تاکہ تم اسے سمجھ سکو۔

12:3 نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ ٱلْقَصَصِ بِمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِۦ لَمِنَ ٱلْغَـٰفِلِينَ
12:3
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
(اے رسول(ص)) ہم اس قرآن کے ذریعہ سے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے ایک بہترین قصہ بیان کرتے ہیں اگرچہ اس سے پہلے آپ غافلوں میں سے تھے۔

12:4 إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَـٰٓأَبَتِ إِنِّى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِى سَـٰجِدِينَ
12:4
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
(اس وقت کو یاد کرو) جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا کہ میں نے خواب میں گیارہ ستاروں اور سورج و چاند کو دیکھا ہے کہ میرے سامنے سجدہ کر رہے ہیں (جھک رہے ہیں)۔

12:5 قَالَ يَـٰبُنَىَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلَىٰٓ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا۟ لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ ٱلشَّيْطَـٰنَ لِلْإِنسَـٰنِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
12:5
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
آپ (ع) نے کہا اے میرے بیٹے! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا کہیں وہ (تمہیں تکلیف پہنچانے کے لئے) کوئی سازش نہ کرنے لگ جائیں بے شک شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔

12:6 وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ ءَالِ يَعْقُوبَ كَمَآ أَتَمَّهَا عَلَىٰٓ أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَـٰقَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
12:6
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور اسی طرح تمہارا پروردگار تمہیں منتخب کرے گا اور تمہیں تعبیرِ خواب کا علم عطا فرمائے گا اور تم پر نیز یعقوب(ع) کے خانوادہ پر اسی طرح اپنی نعمت پوری کرے گا جس طرح اس سے پہلے تمہارے دادا، پردادا ابراہیم و اسحاق پر اپنی نعمت پوری کر چکا ہے بے شک آپ کا پروردگار بڑا علم والا، بڑا حکمت والا ہے۔

12:7 ۞ لَّقَدْ كَانَ فِى يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِۦٓ ءَايَـٰتٌ لِّلسَّآئِلِينَ
12:7
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
بے شک یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں پوچھنے والوں کے لیے (غیب کی) بڑی نشانیاں ہیں۔

12:8 إِذْ قَالُوا۟ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰٓ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ
12:8
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
جب انہوں (یوسف کے سوتیلے بھائیوں) نے آپس میں کہا کہ باوجودیکہ ہم پوری جماعت ہیں مگر یوسف اور اس کا (سگا) بھائی (بن یامین) ہمارے باپ کو زیادہ پیارے ہیں بے شک ہمارے باپ کھلی ہوئی غلطی پر ہیں۔

12:9 ٱقْتُلُوا۟ يُوسُفَ أَوِ ٱطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ وَتَكُونُوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ قَوْمًا صَـٰلِحِينَ
12:9
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
یوسف کو قتل کر دو یا کسی اور سرزمین پر پھینک دو۔ تاکہ تمہارے باپ کا رخ (توجہ) صرف تمہاری طرف ہو جائے اس کے بعد تم بھلے آدمی ہو جاؤگے (تمہارے سب کام بن جائیں گے)۔

12:10 قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوا۟ يُوسُفَ وَأَلْقُوهُ فِى غَيَـٰبَتِ ٱلْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ ٱلسَّيَّارَةِ إِن كُنتُمْ فَـٰعِلِينَ
12:10
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
ان (برادرانِ یوسف) میں سے ایک نے کہا کہ یوسف کو قتل نہ کرو البتہ اگر کچھ کرنا ہے تو اسے کسی اندھے کنویں میں ڈال دو۔ مسافروں کا کوئی قافلہ اسے اٹھا لے جائے گا۔

12:11 قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَا مَا لَكَ لَا تَأْمَ۫نَّا عَلَىٰ يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُۥ لَنَـٰصِحُونَ
12:11
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
(اس قرارداد کے بعد) انہوں نے کہا اے ہمارے والد! کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم تو اس کے بڑے خیرخواہ ہیں۔

12:12 أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ
12:12
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
وہ کچھ کھائے پیئے اور کھیلے کودے ہم اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔

12:13 قَالَ إِنِّى لَيَحْزُنُنِىٓ أَن تَذْهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ ٱلذِّئْبُ وَأَنتُمْ عَنْهُ غَـٰفِلُونَ
12:13
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
آپ (ع) نے کہا تمہارا اسے اپنے ہمراہ لے جانا مجھے غمگین کرتا ہے اور مجھے یہ اندیشہ بھی ہے کہ تم غفلت کرو اور اسے کوئی بھیڑیا کھا جائے۔

12:14 قَالُوا۟ لَئِنْ أَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّآ إِذًا لَّخَـٰسِرُونَ
12:14
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
انہوں نے کہا کہ اگر اسے بھیڑیا کھا جائے جبکہ ہماری پوری جماعت (حفاظت کے لئے) موجود ہے تو پھر تو ہم گھاٹا اٹھانے والے (اور بالکل گئے گزرے) ہوں گے۔

12:15 فَلَمَّا ذَهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَجْمَعُوٓا۟ أَن يَجْعَلُوهُ فِى غَيَـٰبَتِ ٱلْجُبِّ ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَـٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
12:15
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
پھر جب وہ (اصرار کرکے) اسے لے گئے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسے اندھے کنویں میں ڈال دیں (چنانچہ ایسا ہی کیا)۔ اور ہم نے (اس وقت) اس (یوسف) کی طرف وحی کی کہ (ایک وقت آئے گا کہ) تم ان لوگوں کو ان کی یہ حرکت جتاؤگے جبکہ انہیں اس کا شعور نہیں ہوگا۔

12:16 وَجَآءُوٓ أَبَاهُمْ عِشَآءً يَبْكُونَ
12:16
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور وہ شام کے وقت اپنے والد کے پاس روتے ہوئے آئے۔

12:17 قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَـٰعِنَا فَأَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ ۖ وَمَآ أَنتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَـٰدِقِينَ
12:17
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور کہا اے ہمارے والد! ہم تو آپس میں دوڑ میں لگ گئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے بس ایک بھیڑیا آیا اور اسے کھا گیا۔ اور اگرچہ ہم سچے ہی ہوں مگر آپ تو ہماری بات کا یقین نہیں کرتے۔

12:18 وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٍ كَذِبٍ ۚ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ وَٱللَّهُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ
12:18
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور وہ اس (یوسف (ع)) کے کُرتے پر جھوٹا خون لگا کر لائے۔ آپ (ع) نے کہا (یہ جھوٹ ہے) بلکہ تمہارے نفسوں نے (اپنے بچاؤ کیلئے) یہ بات گھڑ کر تمہیں خوشنما دکھا دی ہے (بہرحال اس سانحہ پر) صبر کرنا ہی بہتر ہے اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اس سلسلہ میں اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے۔

12:19 وَجَآءَتْ سَيَّارَةٌ فَأَرْسَلُوا۟ وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُۥ ۖ قَالَ يَـٰبُشْرَىٰ هَـٰذَا غُلَـٰمٌ ۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَـٰعَةً ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ
12:19
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور ایک قافلہ آیا (اور وہاں اترا) تو انہوں نے (پانی لانے کیلئے) اپنا سقا بھیجا۔ پس اس نے جونہی اپنا ڈول ڈالا۔ (تو یوسف اس میں بیٹھ گئے جب ڈول کھینچا) تو پکار اٹھا۔ مبارک باد یہ تو ایک لڑکا ہے اور ان لوگوں نے اسے سرمایۂ تجارت سمجھ کر چھپا رکھا اور وہ لوگ جو کچھ کر رہے تھے اللہ اس سے خوب واقف تھا۔

12:20 وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَٰهِمَ مَعْدُودَةٍ وَكَانُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلزَّٰهِدِينَ
12:20
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور (ادھر برادرانِ یوسف بھی آپہنچے اور یوسف کو اپنا غلام ظاہر کرکے) بالکل کم قیمت پر یعنی گنتی کے چند درہموں کے عوض بیج ڈالا۔ اور ان (بھائیوں) کو اس میں کوئی دلچسپی نہ تھی (بلکہ اس سے بیزار تھے)۔

12:21 وَقَالَ ٱلَّذِى ٱشْتَرَىٰهُ مِن مِّصْرَ لِٱمْرَأَتِهِۦٓ أَكْرِمِى مَثْوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًا ۚ وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمْرِهِۦ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
12:21
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور پھر (اس قافلہ والوں سے) مصر کے جس شخص (عزیزِ مصر) نے اسے (دوبارہ) خریدا تھا اس نے اپنی بیوی (زلیخا) سے کہا اسے عزت کے ساتھ رکھنا ہو سکتا ہے کہ ہمیں کچھ فائدہ پہنچائے یا ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں! اور اسی طرح (حکمتِ عملی سے) ہم نے اس (یوسف (ع)) کو سر زمینِ مصر میں تمکین دی (زمین ہموار کی تاکہ اسے اقتدار کیلئے منتخب کریں) اور خوابوں کی تعبیر کا علم عطا کریں اور اللہ اپنے ہر کام پر غالب ہے (اور اس کے انجام دینے پر قادر ہے) لیکن اکثر لوگ (یہ حقیقت) نہیں جانتے۔

12:22 وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥٓ ءَاتَيْنَـٰهُ حُكْمًا وَعِلْمًا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ
12:22
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور جب وہ (یوسف) پوری جوانی کو پہنچا۔ تو ہم نے اس کو حکمت اور علم عطا کیا اور ہم اسی طرح نیکوکاروں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔

12:23 وَرَٰوَدَتْهُ ٱلَّتِى هُوَ فِى بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِۦ وَغَلَّقَتِ ٱلْأَبْوَٰبَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ ۚ قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ رَبِّىٓ أَحْسَنَ مَثْوَاىَ ۖ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
12:23
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور پھر وہ (یوسف) جس عورت کے گھر میں تھا وہ اپنی مطلب براری کے لئے اس پر ڈورے ڈالنے لگی (چنانچہ) ایک دن سب دروازے بند کر دیے اور کہا بس آجاؤ! یوسف نے کہا معاذ اللہ! (اللہ کی پناہ) وہ (تیرا شوہر) میرا مربی و محسن ہے اس نے مجھے بڑی عزت سے (اپنے گھر میں) ٹھہرایا ہے تو اس کے بدلے میں اس کی امانت میں خیانت کروں؟ (اے معاذ اللہ) بے شک ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔

12:24 وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِۦ ۖ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ أَن رَّءَا بُرْهَـٰنَ رَبِّهِۦ ۚ كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلْفَحْشَآءَ ۚ إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُخْلَصِينَ
12:24
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اس عورت (زلیخا) نے گناہ کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ اور وہ مرد (یوسف) بھی اس کا ارادہ کرتا اگر اپنے پروردگار کا برہان نہ دیکھ لیتا ایسا ہوا تاکہ ہم اس (یوسف) سے برائی اور بے حیائی کو دور رکھیں بے شک وہ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھا۔

12:25 وَٱسْتَبَقَا ٱلْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُۥ مِن دُبُرٍ وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا ٱلْبَابِ ۚ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوٓءًا إِلَّآ أَن يُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
12:25
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور وہ دونوں ایک دوسرے سے پہلے دروازہ تک پہنچنے کے لئے دوڑے اور اس عورت نے اس مرد (یوسف) کا کرتہ پیچھے سے (کھینچ کر) پھاڑ دیا اور پھر دونوں نے اس عورت کے خاوند کو دروازے کے پاس (کھڑا ہوا) پایا۔ اسے دیکھتے ہی اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے اس عورت نے بات بنائی اور کہا جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ بدکاری کرنے کا ارادہ کرے اس کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ اسے قید کر دیا جائے یا کوئی دردناک عذاب دیا جائے۔

12:26 قَالَ هِىَ رَٰوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى ۚ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلْكَـٰذِبِينَ
12:26
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
یوسف (ع) نے کہا (حقیقت یہ ہے کہ) خود اسی نے اپنی مطلب برآری کے لئے مجھ پر ڈورے ڈالے اور مجھے پھسلانا چاہا اس پر اس عورت کے کنبہ والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ اگر یوسف کا کرتہ آگے سے پھٹا ہوا ہے تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا۔

12:27 وَإِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
12:27
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو یہ جھوٹی ہے اور وہ سچا۔

12:28 فَلَمَّا رَءَا قَمِيصَهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍ قَالَ إِنَّهُۥ مِن كَيْدِكُنَّ ۖ إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ
12:28
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
پس جب اس (خاوند) نے یوسف کا کرتہ دیکھا کہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو عورت سے کہا یہ تمہاری مکاریوں سے ایک مکاری ہے بے شک تمہاری مکاریاں بڑی سخت ہوتی ہیں۔

12:29 يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَـٰذَا ۚ وَٱسْتَغْفِرِى لِذَنۢبِكِ ۖ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ ٱلْخَاطِـِٔينَ
12:29
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
پھر یوسف (ع) سے کہا اے یوسف! اس بات سے درگزر کر (اسے جانے دے) اور بیوی سے کہا اپنے گناہ کی معافی مانگ یقینا تو خطاکاروں میں سے ہے۔

12:30 ۞ وَقَالَ نِسْوَةٌ فِى ٱلْمَدِينَةِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ تُرَٰوِدُ فَتَىٰهَا عَن نَّفْسِهِۦ ۖ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ۖ إِنَّا لَنَرَىٰهَا فِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ
12:30
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
پھر (جب اس واقعہ کا چرچا ہوا تو) شہر کی عورتیں کہنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان پر اپنی مطلب براری کے لئے ڈورے ڈال رہی ہے اس کی محبت اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر گئی ہے ہم تو اسے صریح غلطی میں مبتلا دیکھتی ہیں۔

12:31 فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَـًٔا وَءَاتَتْ كُلَّ وَٰحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا وَقَالَتِ ٱخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۖ فَلَمَّا رَأَيْنَهُۥٓ أَكْبَرْنَهُۥ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَـٰشَ لِلَّهِ مَا هَـٰذَا بَشَرًا إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ
12:31
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
جب زلیخا نے ان عورتوں کی یہ مکارانہ باتیں سنیں تو اس نے انہیں بلوا بھیجا اور ان کے لئے مسندیں لگا دیں اور ہر ایک کو (پھل کاٹنے کیلئے) ایک چھری دے دی۔ (پھر جب وہ پھل کاٹ کر کھانے لگیں تو) اس نے یوسف (ع) سے کہا ذرا ان کے سامنے نکل آ پس جب انہوں نے دیکھا تو (حسن و جمال میں) انہیں بڑھا ہوا پایا (لہٰذا حیران رہ گئیں اور پھل کی بجائے) اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں (اور احساس تک نہ ہوا) اور (بے ساختہ) کہہ اٹھیں ماشاء اللہ۔ یہ انسان نہیں ہے بلکہ کوئی معزز فرشتہ ہے۔

12:32 قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ ٱلَّذِى لُمْتُنَّنِى فِيهِ ۖ وَلَقَدْ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ فَٱسْتَعْصَمَ ۖ وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُرُهُۥ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّنَ ٱلصَّـٰغِرِينَ
12:32
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
عزیز کی بیوی نے کہا یہی وہ ہے جس کے بارے میں تم میری ملامت کرتی تھیں بے شک میں نے اس پر ڈورے ڈالے اور پھسلانے کی کوشش کی۔ مگر وہ بچا ہی رہا۔ (ہاں البتہ اب برملا کہتی ہوں کہ) اگر اس نے وہ نہ کیا جس کا میں اسے حکم دیتی ہوں تو پھر اسے ضرور قید کر دیا جائے گا۔ اور ضرور ذلیل بھی ہوگا۔

12:33 قَالَ رَبِّ ٱلسِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِ ۖ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلْجَـٰهِلِينَ
12:33
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
یوسف (ع) نے (بات سن کر کہا) اے میرے پروردگار! اس کام کی نسبت جس کی یہ مجھے دعوت دے رہی ہیں مجھے قیدخانہ پسند ہے اور اگر تو مجھ سے ان کے مکر و فریب کو دور نہ کرے تو ہو سکتا ہے کہ میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں اور اس طرح جاہلوں میں سے ہو جاؤں۔

12:34 فَٱسْتَجَابَ لَهُۥ رَبُّهُۥ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
12:34
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
پس اس کے پروردگار نے اس کی دعا قبول کر لی اور اس سے ان عورتوں کے مکر و فریب کو دور کر دیا بے شک وہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔

12:35 ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّنۢ بَعْدِ مَا رَأَوُا۟ ٱلْـَٔايَـٰتِ لَيَسْجُنُنَّهُۥ حَتَّىٰ حِينٍ
12:35
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
پھر ایسا ہوا کہ باوجودیکہ وہ (یوسف کی پاکدامنی کی) نشانیاں دیکھ چکے تھے۔ تاہم انہیں یہی مناسب معلوم ہوا کہ ایک مدت تک اسے قید کر دیں۔

12:36 وَدَخَلَ مَعَهُ ٱلسِّجْنَ فَتَيَانِ ۖ قَالَ أَحَدُهُمَآ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَعْصِرُ خَمْرًا ۖ وَقَالَ ٱلْـَٔاخَرُ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِى خُبْزًا تَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِنْهُ ۖ نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِۦٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ
12:36
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور یوسف (ع) کے ساتھ دو اور جوان آدمی بھی قید خانہ میں داخل ہوئے ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب (بنانے کے لیے انگور کا رس) نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ سر پر کچھ روٹیاں اٹھائے ہوں۔ جن میں سے پرندے کھا رہے ہیں ہمیں ذرا اس کی تعبیر بتائیے ہم تمہیں نیکوکاروں میں سے دیکھتے ہیں۔

12:37 قَالَ لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِۦٓ إِلَّا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِۦ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا ۚ ذَٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِى رَبِّىٓ ۚ إِنِّى تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ كَـٰفِرُونَ
12:37
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
یوسف (ع) نے کہا جو (مقررہ) کھانا تمہیں دیا جاتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں تمہارے خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا۔ یہ (تعبیرِ خواب) بھی منجملہ ان علوم کے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے تعلیم دیے ہیں۔ میں ان لوگوں کا دین و مذہب چھوڑے ہوئے ہوں جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں۔

12:38 وَٱتَّبَعْتُ مِلَّةَ ءَابَآءِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ ۚ مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشْرِكَ بِٱللَّهِ مِن شَىْءٍ ۚ ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى ٱلنَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ
12:38
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور میں تو اپنے باپ دادا ابراہیم (ع)، اسحاق(ع) اور یعقوب(ع) کے مذہب کا پیرو ہوں۔ ہمیں یہ زیبا نہیں ہے کہ ہم کسی چیز کو بھی خدا کا شریک ٹھہرائیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے جو اس نے ہم اور سب لوگوں پر کیا ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

12:39 يَـٰصَـٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ ءَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ ٱللَّهُ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّارُ
12:39
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اے قید خانہ کے میرے دونوں ساتھیو (یہ بتاؤ) آیا بہت سے جدا جدا خدا اچھے ہیں یا اللہ جو یگانہ بھی ہے اور سب پر غالب بھی؟

12:40 مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْمَآءً سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـٰنٍ ۚ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
12:40
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اللہ کو چھوڑ کر تم جن کی پرستش کرتے ہو ان کی حقیقت اس کے سوا اور کیا ہے؟ کہ وہ چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ اللہ نے ان کے لئے کوئی سند نہیں اتاری ہے حکم و حکومت کا حق صرف اللہ کو حاصل ہے اسی نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی دینِ مستقیم (سیدھا دین) ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

12:41 يَـٰصَـٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسْقِى رَبَّهُۥ خَمْرًا ۖ وَأَمَّا ٱلْـَٔاخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِۦ ۚ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ ٱلَّذِى فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ
12:41
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اے قید خانہ کے میرے دونوں ساتھیو! (اب اپنے خوابوں کی تعبیر سنو) تم میں سے ایک (پہلا) تو وہ ہے جو اپنے مالک (شاہِ مصر) کو شراب پلائے گا اور جو دوسرا ہے اسے سولی پر لٹکایا جائے گا اور پرندے اس کے سر کو (نوچ نوچ کر) کھائیں گے اس بات کا فیصلہ ہو چکا جس کے بارے میں تم دریافت کرتے ہو۔

12:42 وَقَالَ لِلَّذِى ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٍ مِّنْهُمَا ٱذْكُرْنِى عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَىٰهُ ٱلشَّيْطَـٰنُ ذِكْرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِى ٱلسِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ
12:42
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور یوسف (ع) نے اس شخص سے کہا جس کے متعلق وہ سمجھتے تھے کہ وہ ان دنوں میں سے رہا ہو جائے گا۔ کہ اپنے مالک سے میرا تذکرہ بھی کر دینا لیکن شیطان نے اسے اپنے مالک سے یہ تذکرہ کرنا بھلا دیا۔ پس یوسف کئی سال قید خانہ میں پڑا رہا۔

12:43 وَقَالَ ٱلْمَلِكُ إِنِّىٓ أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَٰتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنۢبُلَـٰتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَـٰتٍ ۖ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَأُ أَفْتُونِى فِى رُءْيَـٰىَ إِن كُنتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُونَ
12:43
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
(کچھ مدت کے بعد) بادشاہ نے کہا میں نے (خواب میں) سات موٹی تازی گائیں دیکھی ہیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیاں ہری ہیں اور سات دوسری سوکھی اے سردارو (درباریو) اگر تم خواب کی تعبیر دے سکتے ہو تو پھر مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ۔

12:44 قَالُوٓا۟ أَضْغَـٰثُ أَحْلَـٰمٍ ۖ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ ٱلْأَحْلَـٰمِ بِعَـٰلِمِينَ
12:44
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
انہوں نے کہا یہ تو پریشان خواب و خیالات ہیں (جن کی کوئی خاص تعبیر نہیں ہوتی) اور ہم خوابہائے پریشان کی تعبیر نہیں جانتے۔

12:45 وَقَالَ ٱلَّذِى نَجَا مِنْهُمَا وَٱدَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ أَنَا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِۦ فَأَرْسِلُونِ
12:45
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اس وقت وہ شخص جو ان دو قیدیوں میں رہا ہوا تھا اور مدت کے بعد اسے (یوسف (ع) کا پیغام) یاد آیا تھا بولا میں تمہیں اس خواب کی تعبیر بتاتا ہوں ذرا مجھے (ایک جگہ) بھیج تو دو۔

12:46 يُوسُفُ أَيُّهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِى سَبْعِ بَقَرَٰتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ سُنۢبُلَـٰتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَـٰتٍ لَّعَلِّىٓ أَرْجِعُ إِلَى ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ
12:46
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
(چنانچہ وہ سیدھا قید خانہ گیا اور کہا) اے یوسف! اے بڑے سچے! ذرا ہمیں اس خواب کی تعبیر بتاؤ کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیاں ہری ہیں اور سات سوکھی تاکہ میں ان لوگوں کے پاس جاؤں (اور انہیں جا کر بتاؤں) شاید وہ (تمہاری قدر و منزلت یا تعبیر) جان لیں۔

12:47 قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِى سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تَأْكُلُونَ
12:47
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
یوسف (ع) نے کہا (اس خواب کی تعبیر یہ ہے) کہ تم متواتر سات سال کاشتکاری کروگے پھر جو فصل کاٹو اسے اس کی بالی میں رہنے دو ہاں البتہ تھوڑا سا حصہ نکال لو جسے تم کھاؤ۔

12:48 ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تُحْصِنُونَ
12:48
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
پھر اس کے بعد سات بڑے سخت سال آئیں گے جو وہ سب کچھ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لئے ذخیرہ کیا تھا مگر تھوڑا سا بچے گا جسے تم محفوظ کر لوگے۔

12:49 ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ ٱلنَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ
12:49
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
پھر اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگوں پر خوب بارش برسائی جائے گی اور اس کے ذریعہ سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی۔ اور جس میں وہ (پھلوں کا رس) نچوڑیں گے۔

12:50 وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلرَّسُولُ قَالَ ٱرْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ ٱلنِّسْوَةِ ٱلَّـٰتِى قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبِّى بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ
12:50
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے کہا اس شخص (یوسف) کو میرے پاس لاؤ۔ پس جب قاصد اس کے پاس آیا تو اس نے کہا اپنے بادشاہ کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کے معاملہ کی حقیقت کیا ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے؟ بے شک میرا پروردگار ان کے مکر و فریب سے خوب واقف ہے۔

12:51 قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَٰوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِۦ ۚ قُلْنَ حَـٰشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوٓءٍ ۚ قَالَتِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْـَٔـٰنَ حَصْحَصَ ٱلْحَقُّ أَنَا۠ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
12:51
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
(چنانچہ بادشاہ نے ان سب عورتوں کو بلایا اور) پوچھا۔ تمہارا کیا معاملہ تھا جب تم نے اپنی مطلب براری کے لئے یوسف پر ڈورے ڈالے تھے اور اسے پھسلانا چاہا تھا؟ سب نے (بیک زبان) کہا حاشا ﷲ! ہمیں تو اس کی ذرا بھر کوئی برائی معلوم نہیں ہوئی (اس وقت) عزیزِ مصر کی بیوی نے کہا اب جبکہ حق ظاہر ہوگیا (اور حقیقتِ حال بالکل آشکارا ہوگئی) تو وہ میں تھی جس نے اس (یوسف) پر ڈورے ڈالے تھے بے شک وہ سچے لوگوں میں سے ہے۔

12:52 ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ بِٱلْغَيْبِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى كَيْدَ ٱلْخَآئِنِينَ
12:52
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
(یوسف نے کہا) یہ سب کچھ اس لئے کیا تاکہ وہ عزیز مصر کو (مزید) علم ہو جائے کہ میں نے اس کی پس پشت (اس کی امانت میں) خیانت نہیں کی اور یقینا اللہ خیانت کاروں کے مکر و فریب کو کامیاب نہیں ہونے دیتا۔

12:53 ۞ وَمَآ أُبَرِّئُ نَفْسِىٓ ۚ إِنَّ ٱلنَّفْسَ لَأَمَّارَةٌۢ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىٓ ۚ إِنَّ رَبِّى غَفُورٌ رَّحِيمٌ
12:53
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
میں اپنے نفس کو (بھی) بری قرار نہیں دیتا بے شک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا (اور اس پر اکسانے والا) ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار (کسی کے حال پر) رحم کرے یقینا میرا پروردگار بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا۔

12:54 وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦٓ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِى ۖ فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌ
12:54
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور بادشاہ نے کہا کہ اسے میرے پاس بلاؤ تاکہ میں اسے اپنے (ذاتی کاموں کی انجام دہی) کے لیے مخصوص کر لوں۔ پس جب (یوسف آئے اور) بادشاہ نے اس سے گفتگو کی تو (متاثر ہوکر) کہا آج سے تم ہمارے ہاں صاحب مرتبہ اور امانت دار ہو۔

12:55 قَالَ ٱجْعَلْنِى عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلْأَرْضِ ۖ إِنِّى حَفِيظٌ عَلِيمٌ
12:55
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
آپ (ع) نے کہا مجھے (اس) زمین کے خزانوں پر مقرر کر دیجیے میں یقیناً (مال کی) حفاظت کرنے والا اور اس کام کا جاننے والا بھی ہوں۔

12:56 وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ ۚ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَآءُ ۖ وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ
12:56
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور اس طرح ہم نے یوسف کو اس سرزمین میں اختیار و اقتدار دیا کہ وہ اس میں جہاں چاہے رہے ہم جسے چاہتے ہیں اپنی رحمت سے نوازتے ہیں اور ہم نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

12:57 وَلَأَجْرُ ٱلْـَٔاخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ
12:57
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور البتہ جو لوگ ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیا ان کے لئے آخرت کا اجر و ثواب یقیناً (اس سے) بہتر ہے۔

12:58 وَجَآءَ إِخْوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ
12:58
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور (قحط سالی کے دنوں میں غلہ خریدنے) یوسف کے بھائی (مصر) آئے اور (یوسف) کے پاس گئے تو اس نے انہیں پہچان لیا جبکہ وہ اسے نہ پہچان سکے۔

12:59 وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ قَالَ ٱئْتُونِى بِأَخٍ لَّكُم مِّنْ أَبِيكُمْ ۚ أَلَا تَرَوْنَ أَنِّىٓ أُوفِى ٱلْكَيْلَ وَأَنَا۠ خَيْرُ ٱلْمُنزِلِينَ
12:59
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور جب یوسف نے ان کی (خوراک) کا سامان تیار کروا دیا تو (جاتے وقت) کہا (اب کی بار) اپنے (سوتیلے) پدری بھائی کو بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں پورا پورا ناپ (تول) کر (غلہ) دیتا ہوں اور میں کتنا اچھا مہمان نواز ہوں۔

12:60 فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِۦ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِى وَلَا تَقْرَبُونِ
12:60
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لائے تو پھر تمہارے لئے نہ میرے پاس تولنے کے لئے (غلہ) ہوگا اور نہ ہی میرے قریب آنا۔

12:61 قَالُوا۟ سَنُرَٰوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَـٰعِلُونَ
12:61
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
ان لوگوں نے کہا کہ ہم اس کے باپ پر ڈورے ڈالیں گے کہ وہ (آمادہ ہو جائیں) اور ہم ضرور ایسا کریں گے۔

12:62 وَقَالَ لِفِتْيَـٰنِهِ ٱجْعَلُوا۟ بِضَـٰعَتَهُمْ فِى رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُونَهَآ إِذَا ٱنقَلَبُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
12:62
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور یوسف نے اپنے جوانوں (غلاموں) سے کہا کہ ان کی پونجی (جس کے عوض غلہ خریدا ہے) ان کے سامان میں رکھ دو۔ تاکہ جب اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر جائیں تو اسے پہچانیں (اور) شاید دوبارہ آئیں۔

12:63 فَلَمَّا رَجَعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيهِمْ قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا ٱلْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَآ أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ
12:63
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور جب وہ لوگ لوٹ کر اپنے والد کے پاس گئے تو کہا اے ہمارے باپ! ہمارے لئے (ناپ تول کر) غلہ دیا جانا بند کر دیا گیا ہے (جب تک بھائی کو ہمراہ نہ لے جائیں) اس لئے ہمارے بھائی (بنیامین) کو ہمارے ساتھ بھیجئے تاکہ ہم غلہ لا سکیں اور ہم یقیناً اس کی (پوری) حفاظت کریں گے۔

12:64 قَالَ هَلْ ءَامَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلَّا كَمَآ أَمِنتُكُمْ عَلَىٰٓ أَخِيهِ مِن قَبْلُ ۖ فَٱللَّهُ خَيْرٌ حَـٰفِظًا ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ
12:64
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
آپ (ع) نے کہا کیا میں اس کے بارے میں تم پر اسی طرح اعتماد کروں جس طرح اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا؟ بہرحال اللہ سب سے بہتر حفاظت کرنے والا ہے اور وہی سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

12:65 وَلَمَّا فَتَحُوا۟ مَتَـٰعَهُمْ وَجَدُوا۟ بِضَـٰعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ ۖ قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَا مَا نَبْغِى ۖ هَـٰذِهِۦ بِضَـٰعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا ۖ وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ ۖ ذَٰلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ
12:65
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کی پونجی انہیں واپس کر دی گئی ہے تو کہنے لگے ابا جان! ہمیں اور کیا چاہیئے؟ (دیکھے) یہ ہماری پونجی ہے جو ہمیں واپس کر دی گئی ہے (اب کی بار جو بھائی کو اپنے ساتھ لے جائیں گے) تو جہاں اپنے گھر والوں کے لیے رسد لائیں گے اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے (وہاں) ایک اونٹ کا بار اور زیادہ بھی لائیں گے اور یہ غلہ (جو اب کی بار ہم لائے ہیں) بہت تھوڑا ہے۔

12:66 قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُۥ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِّنَ ٱللَّهِ لَتَأْتُنَّنِى بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُمْ ۖ فَلَمَّآ ءَاتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ
12:66
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
آپ (ع) نے کہا میں اسے کبھی تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا جب تک اللہ کی قسم کھا کر مجھ سے عہد و پیمان نہ کرو کہ تم اسے ضرور اپنے ساتھ لاؤگے سوا اس کے کہ تم سب ہی گھیر لئے جاؤ (اور بے بس ہو جاؤ) پھر جب انہوں نے قسم کھا کر اپنا قول و قرار دے دیا تو آپ نے کہا اللہ ہمارے قول قرار پر نگہبان ہے۔

12:67 وَقَالَ يَـٰبَنِىَّ لَا تَدْخُلُوا۟ مِنۢ بَابٍ وَٰحِدٍ وَٱدْخُلُوا۟ مِنْ أَبْوَٰبٍ مُّتَفَرِّقَةٍ ۖ وَمَآ أُغْنِى عَنكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ ۖ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ
12:67
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور آپ (ع) نے کہا اے میرے بیٹو (جب مصر پہنچو) تو ایک دروازے سے (شہر میں) داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا اور میں تمہیں اللہ (کی مشیت اور اس کی قضا و قدر) سے بچا تو نہیں سکتا (ہر قسم کا) حکم (اور فیصلہ) اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی پر سب بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہیئے (میں نے تو صرف احتیاط کے طور پر یہ تدبیر بنائی ہے)۔

12:68 وَلَمَّا دَخَلُوا۟ مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغْنِى عَنْهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ إِلَّا حَاجَةً فِى نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَىٰهَا ۚ وَإِنَّهُۥ لَذُو عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنَـٰهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
12:68
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور جب وہ لوگ (مصر میں) اسی طرح داخل ہوئے جس طرح ان کے باپ نے انہیں حکم دیا تھا ان کا اس طرح داخل ہونا انہیں خدا (کی مشیت اور اس کی تقدیر) سے بچا تو نہیں سکتا تھا مگر یہ (احتیاطی تدبیر) یعقوب کے دل میں ایک تمنا تھی جسے انہوں نے پورا کر لیا بے شک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحبِ علم تھا لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے۔

12:69 وَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَخَاهُ ۖ قَالَ إِنِّىٓ أَنَا۠ أَخُوكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
12:69
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور جب یہ لوگ یوسف (ع) کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے (حقیقی) بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس جگہ دی (اور آہستگی سے) کہا میں تیرا بھائی (یوسف) ہوں بس تو اس پر غمگین نہ ہو جو کچھ یہ لوگ سلوک کرتے رہے ہیں۔

12:70 فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِى رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا ٱلْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَـٰرِقُونَ
12:70
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
پھر جب اس (یوسف) نے ان کا سامان تیار کرایا تو پانی پینے کا کٹورا اپنے (سگے) بھائی کے سامان میں رکھوا دیا پھر ایک منادی نے ندا دی کہ اے قافلہ والو! تم چور ہو۔

12:71 قَالُوا۟ وَأَقْبَلُوا۟ عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ
12:71
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
وہ لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور (پریشان ہوکر) کہا تم نے کون سی چیز گم کی ہے؟

12:72 قَالُوا۟ نَفْقِدُ صُوَاعَ ٱلْمَلِكِ وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمْلُ بَعِيرٍ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٌ
12:72
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
انہوں نے کہا کہ ہم نے بادشاہ کے پینے کا (قیمتی) کٹورا گم کیا ہے اور جو اسے لائے گا اسے ایک بار شتر (غلہ) انعام دیا جائے گا اور میں (منادی) اس بات کا ضامن ہوں۔

12:73 قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَـٰرِقِينَ
12:73
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
انہوں نے کہا کہ تم جانتے ہو کہ ہم اس لئے نہیں آئے کہ زمین میں فساد برپا کریں اور نہ ہی ہم چور ہیں۔

12:74 قَالُوا۟ فَمَا جَزَٰٓؤُهُۥٓ إِن كُنتُمْ كَـٰذِبِينَ
12:74
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
انہوں (ملازمین) نے کہا اگر تم جھوٹے نکلے تو اس (چور) کی سزا کیا ہے؟

12:75 قَالُوا۟ جَزَٰٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِى رَحْلِهِۦ فَهُوَ جَزَٰٓؤُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّـٰلِمِينَ
12:75
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
انہوں نے کہا اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان سے مل جائے وہ خود ہی اس کی سزا ہے ہم اسی طرح ظلم کرنے والوں کو سزا دیتے ہیں۔

12:76 فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ ۚ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ ۖ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ ٱلْمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَـٰتٍ مَّن نَّشَآءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌ
12:76
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
تب یوسف (ع) نے اپنے (سگے) بھائی کی خرجین سے پہلے دوسروں کی خرجینوں کی تلاشی لینا شروع کی پھر اپنے بھائی کی خرجین سے وہ گم شدہ کٹورا نکال لیا ہم نے اس طرح (بنیامین کو اپنے پاس رکھنے) کیلئے یوسف کے لیے تدبیر کی کیونکہ وہ (مصر کے) بادشاہ کے قانون میں اپنے بھائی کو نہیں لے سکتے تھے مگر یہ کہ خدا چاہتا ہم جس کے چاہتے ہیں مرتبے بلند کر دیتے ہیں اور ہر صاحبِ علم سے بڑھ کر ایک عالم ہوتا ہے۔

12:77 ۞ قَالُوٓا۟ إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَّهُۥ مِن قَبْلُ ۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِى نَفْسِهِۦ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا ۖ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ
12:77
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
ان لوگوں (برادرانِ یوسف(ع)) نے کہا اگر اس نے چوری کی ہے تو اس پر کیا تعجب اس سے پہلے اس کے ایک حقیقی بھائی نے بھی چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھا اور ان پر ظاہر نہیں کیا (البتہ صرف اتنا) کہا تم بہت ہی برے لوگ ہو اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

12:78 قَالُوا۟ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ إِنَّ لَهُۥٓ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُۥٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ
12:78
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
انہوں نے کہا اے عزیز (مصر) اس کا ایک بہت بوڑھا باپ ہے (وہ اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکے گا) اس لئے اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ہم آپ کو احسان کرنے والوں میں سے دیکھتے ہیں۔

12:79 قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَـٰعَنَا عِندَهُۥٓ إِنَّآ إِذًا لَّظَـٰلِمُونَ
12:79
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
یوسف (ع) نے کہا معاذ اللہ (اللہ کی پناہ) کہ ہم اس آدمی کے سوا جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے کسی اور شخص کو پکڑیں اس صورت میں تو ہم ظالم قرار پائیں گے۔

12:80 فَلَمَّا ٱسْتَيْـَٔسُوا۟ مِنْهُ خَلَصُوا۟ نَجِيًّا ۖ قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًا مِّنَ ٱللَّهِ وَمِن قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِى يُوسُفَ ۖ فَلَنْ أَبْرَحَ ٱلْأَرْضَ حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِىٓ أَبِىٓ أَوْ يَحْكُمَ ٱللَّهُ لِى ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَـٰكِمِينَ
12:80
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
پھر جب وہ لوگ اس (یوسف) سے مایوس ہوگئے تو علیٰحدہ جاکر باہم سرگوشی (مشورہ) کرنے لگے جو ان میں (سب سے) بڑا تھا اس نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ (بنیامین کے بارے میں) خدا کے نام پر تم سے عہد و پیمان لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف(ع) کے بارے میں جو تقصیر تم کر چکے ہو (وہ بھی تم جانتے ہو) اس لئے میں تو اس سر زمین کو نہیں چھوڑوں گا جب تک میرا باپ مجھے اجازت نہ دے یا پھر اللہ میرے لئے کوئی فیصلہ نہ کرے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

12:81 ٱرْجِعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيكُمْ فَقُولُوا۟ يَـٰٓأَبَانَآ إِنَّ ٱبْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَـٰفِظِينَ
12:81
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
لہٰذا تم لوگ اپنے باپ کے پاس واپس جاؤ۔ اور جاکر کہو اے ہمارے باپ! آپ کے بیٹے (بنیامین) نے چوری کی ہے اور ہم نے اسی بات کی گواہی دی ہے۔ جس کا ہمیں علم ہے اور ہم غیب کی نگہبانی کرنے والے نہیں ہیں (غیبی باتوں کی ہمیں خبر نہیں ہے)۔

12:82 وَسْـَٔلِ ٱلْقَرْيَةَ ٱلَّتِى كُنَّا فِيهَا وَٱلْعِيرَ ٱلَّتِىٓ أَقْبَلْنَا فِيهَا ۖ وَإِنَّا لَصَـٰدِقُونَ
12:82
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور آپ اس بستی (مصر) کے لوگوں سے پوچھ لیجئے جس میں ہم تھے اور قافلہ والوں سے دریافت کیجئے جس کے ساتھ ہم آئے ہیں اور بے شک ہم سچے ہیں۔

12:83 قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ
12:83
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
آپ (ع) نے (یہ قصہ سن کر) کہا (ایسا نہیں ہے) بلکہ تمہارے نفسوں نے یہ بات تمہارے لئے گھڑ لی ہے (اور خوشنما کرکے سجھائی ہے) تو اب (میرے لئے) صبرِ جمیل ہی اولیٰ ہے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کو میرے پاس لائے گا بے شک وہ بڑا علم والا، بڑا حکمت والا ہے۔

12:84 وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَـٰٓأَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَٱبْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ ٱلْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ
12:84
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
(یہ کہہ کر) ان لوگوں کی طرف سے منہ پھیر لیا اور کہا ہائے یوسف (ہائے یوسف) اور رنج و غم (کی شدت) سے (رو رو کر) ان کی دونوں آنکھیں سفید ہوگئیں اور وہ (باوجود مصیبت زدہ ہونے) کے بڑے ضبط کرنے والے اور خاموش تھے۔

12:85 قَالُوا۟ تَٱللَّهِ تَفْتَؤُا۟ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ ٱلْهَـٰلِكِينَ
12:85
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
ان لوگوں (بیٹوں) نے کہا خدا کی قسم معلوم ہوتا ہے کہ آپ برابر یوسف (ع) کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ سخت بیمار ہو جائیں گے یا ہلاک ہو جائیں گے۔

12:86 قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُوا۟ بَثِّى وَحُزْنِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
12:86
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
آپ (ع) نے کہا کہ میں اپنے رنج و غم کی شکایت بس اللہ ہی سے کر رہا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

12:87 يَـٰبَنِىَّ ٱذْهَبُوا۟ فَتَحَسَّسُوا۟ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَا۟يْـَٔسُوا۟ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ لَا يَا۟يْـَٔسُ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْكَـٰفِرُونَ
12:87
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اے میرے بیٹو! (ایک بار پھر مصر) جاؤ اور یوسف (ع) اور اس کے بھائی کی تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو بے شک اللہ کی رحمت سے صرف کافر لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں۔

12:88 فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ قَالُوا۟ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا ٱلضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَـٰعَةٍ مُّزْجَىٰةٍ فَأَوْفِ لَنَا ٱلْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَجْزِى ٱلْمُتَصَدِّقِينَ
12:88
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
(چنانچہ حسب الحکم) جب یہ لوگ (مصر گئے) اور یوسف (ع) کے پاس پہنچے تو کہنے لگے اے عزیزِ مصر! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو بڑی تکلیف پہنچی ہے (اس لئے اب کی بار) ہم بالکل حقیر سی پونجی لائے ہیں (اسے قبول کریں اور) ہمیں پیمانہ پورا ناپ کر دیجیئے (بھرپور غلہ دیجئے) اور (مزید برآں) ہم کو صدقہ و خیرات بھی دیجئے بے شک اللہ صدقہ خیرات کرنے والوں کو جزاءِ خیر دیتا ہے۔

12:89 قَالَ هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَـٰهِلُونَ
12:89
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
آپ (ع) نے کہا تمہیں کچھ معلوم ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے (سگے) بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا جبکہ تم جاہل و نادان تھے؟

12:90 قَالُوٓا۟ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ ۖ قَالَ أَنَا۠ يُوسُفُ وَهَـٰذَآ أَخِى ۖ قَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ
12:90
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اس پر وہ لوگ چونکے اور کہا کیا تم یوسف ہو؟ کہا ہاں میں یوسف (ع) ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر احسان کیا بے شک جو پرہیزگاری اختیار کرتا ہے اور صبر سے کام لیتا ہے (وہ بالآخر ضرور کامیاب ہوتا ہے کیونکہ) اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

12:91 قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَـٰطِـِٔينَ
12:91
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
انہوں (بھائیوں) نے (شرمسار ہوکر) کہا بے شک اللہ نے تمہیں ہم پر برتری عطا فرمائی ہے اور بے شک ہم خطاکار ہیں۔

12:92 قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ ٱلْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ ٱللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ
12:92
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
آپ (ع) نے کہا آج تم پر کوئی الزام (اور لعنت ملامت) نہیں ہے اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ بڑا رحم کرنے والا (مہربان) ہے۔

12:93 ٱذْهَبُوا۟ بِقَمِيصِى هَـٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِى يَأْتِ بَصِيرًا وَأْتُونِى بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ
12:93
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
(بعد ازاں) کہا میری قمیص لے جاؤ اور اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دو ان کی بینائی پلٹ آئے گی (وہ بینا ہو جائیں گے) اور پھر اپنے سب اہل و عیال کو (یہاں) میرے پاس لے آؤ۔

12:94 وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّى لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَآ أَن تُفَنِّدُونِ
12:94
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور جب (مصر سے) قافلہ روانہ ہوا تو ان کے باپ نے (کنعان میں) کہا اگر تم مجھے مخبوط الحواس نہ سمجھو تو میں یوسف (ع) کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں۔

12:95 قَالُوا۟ تَٱللَّهِ إِنَّكَ لَفِى ضَلَـٰلِكَ ٱلْقَدِيمِ
12:95
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
ان (گھر والوں) نے کہا خدا کی قسم آپ اپنی پرانی غلطی میں مبتلا ہیں۔

12:96 فَلَمَّآ أَن جَآءَ ٱلْبَشِيرُ أَلْقَىٰهُ عَلَىٰ وَجْهِهِۦ فَٱرْتَدَّ بَصِيرًا ۖ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّىٓ أَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
12:96
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
پھر جب خوشخبری دینے والا آیا (اور) وہ قمیص ان کے چہرہ پر ڈالی تو وہ فوراً بینا ہوگئے اور کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

12:97 قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَا ٱسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَـٰطِـِٔينَ
12:97
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
انہوں (بیٹوں) نے کہا اے ہمارے باپ (خدا سے) ہمارے گناہوں کی مغفرت طلب کریں یقینا ہم خطاکار تھے۔

12:98 قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّىٓ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
12:98
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
آپ (ع) نے کہا میں عنقریب تمہارے لئے اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کروں گا بے شک وہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔

12:99 فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ٱدْخُلُوا۟ مِصْرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ
12:99
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
جب وہ سب لوگ کنعان سے روانہ ہو کر یوسف (ع)کے پاس (مصر میں) پہنچے تو انہوں نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا (اب) مصر میں داخل ہو خدا نے چاہا تو یہاں امن و اطمینان سے رہوگے۔

12:100 وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى ٱلْعَرْشِ وَخَرُّوا۟ لَهُۥ سُجَّدًا ۖ وَقَالَ يَـٰٓأَبَتِ هَـٰذَا تَأْوِيلُ رُءْيَـٰىَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّا ۖ وَقَدْ أَحْسَنَ بِىٓ إِذْ أَخْرَجَنِى مِنَ ٱلسِّجْنِ وَجَآءَ بِكُم مِّنَ ٱلْبَدْوِ مِنۢ بَعْدِ أَن نَّزَغَ ٱلشَّيْطَـٰنُ بَيْنِى وَبَيْنَ إِخْوَتِىٓ ۚ إِنَّ رَبِّى لَطِيفٌ لِّمَا يَشَآءُ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ
12:100
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور (دربار میں پہنچ کر) اپنے ماں باپ کو تختِ شاہی پر (اونچا) بٹھایا اور سب اس کے سامنے سجدہ (شکر) میں جھک گئے (اس وقت) یوسف (ع) نے کہا اے بابا یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو (بہت عرصہ) پہلے میں نے دیکھا تھا جسے میرے پروردگار نے سچ کر دکھایا ہے اور اس نے مجھ پر بڑا احسان کیا کہ مجھے قید خانہ سے نکالا اور آپ لوگوں کو صحراء (گاؤں) سے یہاں (شہر میں) لایا۔ بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان اختلاف و فساد ڈال دیا تھا بے شک میرا پروردگار جو کام کرنا چاہتا ہے اس کی بہترین تدبیر کرنے والا ہے بلاشبہ وہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔

12:101 ۞ رَبِّ قَدْ ءَاتَيْتَنِى مِنَ ٱلْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ أَنتَ وَلِىِّۦ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِى مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّـٰلِحِينَ
12:101
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اے میرے پروردگار! تو نے مجھے سلطنت عطا فرمائی ہے اور خوابوں کی تعبیر کا علم بھی تو نے ہی مجھے بخشا ہے اے آسمانوں اور زمین کے خالق تو دنیا و آخرت میں میرا سرپرست اور کارساز ہے میرا خاتمہ (حقیقی) اسلام اور فرمانبرداری پر کر اور مجھے اپنے نیکوکار بندوں میں داخل فرما۔

12:102 ذَٰلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۖ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوٓا۟ أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ
12:102
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
(اے پیغمبر(ص)) یہ (داستان) غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں اور آپ ان (برادرانِ یوسف (ع)) کے پاس اس وقت موجود نہیں تھے جب کہ وہ آپس میں اتفاق کرکے یوسف کے خلاف سازش کر رہے تھے۔

12:103 وَمَآ أَكْثَرُ ٱلنَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
12:103
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور آپ کتنا ہی حرص کریں (اور کتنا ہی چاہیں) مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔

12:104 وَمَا تَسْـَٔلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَـٰلَمِينَ
12:104
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
حالانکہ آپ اس بات (تبلیغِ رسالت) پر ان سے کوئی اجرت بھی نہیں مانگتے یہ (قرآن) تو تمام جہانوں کے لئے یاددہانی اور پند و موعظہ ہے۔

12:105 وَكَأَيِّن مِّنْ ءَايَةٍ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ
12:105
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور آسمانوں اور زمین میں (خدا کے وجود اور اس کی قدرت کی) کتنی ہی نشانیاں موجود ہیں مگر یہ لوگ ان سے روگردانی کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں (اور کوئی توجہ نہیں کرتے)۔

12:106 وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ
12:106
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان بھی لاتے ہیں تو اس حالت میں کہ (عملی طور پر) برابر شرک بھی کئے جاتے ہیں۔

12:107 أَفَأَمِنُوٓا۟ أَن تَأْتِيَهُمْ غَـٰشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ ٱللَّهِ أَوْ تَأْتِيَهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
12:107
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
کیا وہ اس بات سے مطمئن ہوگئے ہیں کہ ان پر کوئی عذابِ الٰہی آجائے اور چھا جائے یا اچانک ان کے سامنے اس حال میں قیامت آجائے کہ انہیں خبر بھی نہ ہو۔

12:108 قُلْ هَـٰذِهِۦ سَبِيلِىٓ أَدْعُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا۠ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِى ۖ وَسُبْحَـٰنَ ٱللَّهِ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ
12:108
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
(اے پیغمبر) آپ کہہ دیجئے! کہ میرا راستہ تو یہ ہے کہ میں اور جو میرا (حقیقی) پیروکار ہے ہم اللہ کی طرف بلاتے ہیں اس حال میں کہ ہم واضح دلیل پر ہیں اور اللہ ہر نقص و عیب سے پاک ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

12:109 وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِىٓ إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ ٱلْقُرَىٰٓ ۗ أَفَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۗ وَلَدَارُ ٱلْـَٔاخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
12:109
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
(اے رسول(ص)) ہم نے آپ سے پہلے جن کو بھی رسول بنا کر بھیجا وہ مرد تھے اور آبادیوں کے باشندے تھے جن کی طرف ہم وحی کیا کرتے تھے کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے یقینا آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لئے بہتر ہے کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟

12:110 حَتَّىٰٓ إِذَا ٱسْتَيْـَٔسَ ٱلرُّسُلُ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا۟ جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّىَ مَن نَّشَآءُ ۖ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْمُجْرِمِينَ
12:110
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
یہاں تک کہ جب رسول مایوس ہونے لگے اور خیال کرنے لگے کہ (شاید) ان سے جھوٹ بولا گیا ہے۔ تو (اچانک) ان کے پاس ہماری مدد پہنچ گئی پس جسے ہم نے چاہا وہ نجات پا گیا اور مجرموں سے ہمارا عذاب ٹالا نہیں جا سکتا۔

12:111 لَقَدْ كَانَ فِى قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُو۟لِى ٱلْأَلْبَـٰبِ ۗ مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَىٰ وَلَـٰكِن تَصْدِيقَ ٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَىْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
12:111
Muhammad Hussain Najafi (Urdu) :
یقیناً ان لوگوں کے (عروج و زوال کے) قصہ میں صاحبانِ عقل کے لئے بڑی عبرت و نصیحت ہے وہ (قرآن) کوئی گھڑی ہوئی بات نہیں ہے بلکہ یہ تو اس کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے موجود ہے اور ہر چیز کی تفصیل ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے (سراسر) ہدایت و رحمت ہے۔